25 جنوری، 2026، 4:34 PM

ٹرمپ کی دھمکیاں کھوکھلی، امریکہ تنہا جنگ نہیں لڑ سکتا، ایران کبھی سرنڈر نہیں کرے گا، عرب تجزیہ نگار

ٹرمپ کی دھمکیاں کھوکھلی، امریکہ تنہا جنگ نہیں لڑ سکتا، ایران کبھی سرنڈر نہیں کرے گا، عرب تجزیہ نگار

ممتاز عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی دھمکیاں عملی حملے میں تبدیل ہونے کے امکانات کم ہیں، تاہم اگر امریکہ نے کسی بھی سطح پر جارحیت کی تو ایران کا جواب نہایت سخت، ہمہ گیر اور پورے خطے تک پھیلنے والا ہوگا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عبدالباری عطوان لکھتے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی دھمکیوں کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکہ واقعی جنگ چھیڑنے جا رہا ہے۔ ٹرمپ کی سابقہ روش اس بات کی گواہ ہے کہ وہ سخت بیانات تو دیتے ہیں، مگر عملی محاذ آرائی سے گریز کرتے ہیں، جیسا کہ روس اور چین کے معاملے میں بھی دیکھنے میں آیا۔

عطوان کے مطابق، اگر امریکہ مغربی اتحاد کی مکمل حمایت کے بغیر ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایسی جنگ میں فتح یقینی نہیں ہوگی۔ ایران نہ تو ہتھیار ڈالے گا اور نہ ہی امریکی شرائط پر مذاکرات قبول کرے گا، بالخصوص اس وقت جب تہران نے حالیہ داخلی بحران میں دشمن کی جانب سے نظام کی تبدیلی کی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

وہ اس تناظر میں چار بنیادی نکات کی نشاندہی کرتے ہیں:

اول: امریکی وزارت دفاع کی نئی دفاعی حکمت عملی اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن خطے میں براہ راست جنگ میں کودنے کے بجائے اپنے اتحادیوں اور خاص طور پر اسرائیل کو آگے رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ امریکہ خود کو عراق اور افغانستان جنگ کی طرح تنہا محسوس کرتا ہے۔

دوم: مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایران کے ممکنہ ردعمل کا شدید خوف پایا جاتا ہے۔ صہیونی ٹی وی چینل 2 کے مطابق، اگر ایران کو امریکی حملہ یقینی نظر آیا تو وہ اسرائیل پر میزائل حملہ کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوگا۔ تل ابیب کی جانب بین الاقوامی پروازوں کی معطلی اسی خوف کی عکاسی ہے۔

سوم: ایرانی حکام واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے کسی بھی نوعیت کا حملہ—خواہ محدود ہو یا وسیع— مکمل جنگ تصور کیا جائے گا اور اس کا سخت ترین جواب دیا جائے گا۔ ایران ہر دستیاب ہتھیار استعمال کرنے اور بدترین منظرنامے کے لیے تیار ہے۔

چہارم: تہران بخوبی جانتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی سب سے بڑی کمزوری طویل اور تھکا دینے والی جنگ ہے۔ اسی بنیاد پر ایران نے ایک طویل المدتی عسکری حکمت عملی ترتیب دی ہے اور گزشتہ 12 روزہ جنگ کے تجربات سے فائدہ اٹھایا ہے۔ یہاں تک کہ ایران کے بعض حلقے فوری جنگ بندی کے حامی بھی نہیں۔

عطوان کے مطابق، اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ایرانی ردعمل صرف خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسرائیل بھی اس کی زد میں آئے گا، جبکہ حزب اللہ اور یمن کی انصار اللہ جیسی مزاحمتی قوتیں بھی میدان میں اتریں گی۔ ان کے بقول، ایران اپنی وسعت اور عسکری طاقت کے باعث کسی بھی جنگ کے بعد نقشے پر باقی رہے گا، بلکہ ممکن ہے پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائے، جبکہ اسرائیل اور عرب ممالک جیسے دوسرے فریق سکڑ جائیں یا مٹ جائیں۔
 

News ID 1937879

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha